Ptarya Suthur | Memorable Moment

Ptarya Suthur | Memorable Moment

Mohammad Ismail | Memorable Moment

Memorable Moment | With Badminton

Memorable Moment | In Wilimah

اشہد قمرالدین رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے

Mohammad Zahid     19:23    
موت سے کس کو رستگاری ہے۔
آج تم کل ہماری باری ہے۔
زندگی سے بے وفاء کوئی چیز نہیں ' موت سے وفا دار کوئی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وقت کم ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ زندگی بہت کم ہے کہ اسے نفرت کی آگ میں ناجھلسایا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  نہ کسی کو پریشان کیا جائے اور نہ ہی  اسکی طرف کسی کو راغب کیا جائے جس نے اپنی زندگی میں محبت کے پھول کھلائے ۔۔۔۔۔۔ وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر پل اس کی کمی محسوس ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی خوشبو  یاد بن کر آتی رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسا کہ آپ سب تک یہ خبر پہونچ ہی گئی ہے  کہ اشہد ولد قمر الدین آج شام تقریباً 4/ بجے  بتاریخ۔۔۔ 13/ شعبان  1436 ہجری مطابق 1/ مئی  2015 عیسوی کو دماغی دورہ پڑنے  سے  کم عمری میں ہی اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وان الیہ راجعون
زندگی کیا بھروسہ کب موت آجائے کسی کو پتا نہیں ۔آج اگر ہم نے آخرت کی تیاری نہیں کہ تو کل ہمیں وہاں میدان محشر میں شرمندہ ہونا ہوگا وہاں کوئی کسی کے کام نہ آئے گا ماں ، باپ بھائی ، بیٹا ، بیٹی ، بیوی حتی کی کوئی بھی رشتہ دار وہاں کسی کے کام نہ آئے گا وہاں نفسی نفسی کا عالم ہوگا تو کیوں نہ ہم آج ہی اس سفر کی تیاری کر لیں جہاں ہمیں جانا ہے عقلمند وہی ہے  جو امتحان سے پہلے اسکی تیاری کرلے ۔ 
اللہ سے دعا کریں کہ  اللہ  کروٹ کروت آرام نصیب کرے اور قبر کی منزل کو آسان کردے آمین ثم آمین

مسجدِ قدیم (چھوٹا پورہ کی مغرب کے طرف) میں تجدید کا کام شروع ہوگیا ہے۔

Mohammad Zahid     20:11    
 مسجدِ قدیم (چھوٹا پورہ کی مغرب کے طرف) میں تجدید کا کام شروع ہوگیا ہے۔ اس تجدید میں فرش، وضو خانہ اور حمام کی وغیرہ کی تجدید ہوسکتی ہے جیسا کی آپ تصویر میں دیکھ سکتے ہیں کی فرش بھی توڑا جا چکا ہے اذان دینے کی جگہ اور وضو خانہ بھی اپنی اصلی حالت پر برقرار نہیں ہے۔ کل ملا کر مسجد کے پچھلے حصہ کو ایک سرے سے تعمیر کیا جائے گا۔

تصویریں





گیارہ فروری 2010 عیسوی یعنی ٹھیک 5 سال پہلے شاہد اعظمی کو شہید کردیا گیا

Mohammad Zahid     01:43    
پڑھیں اور اشتراک ضرور کریں۔
11 فروری 2010 عیسوی یعنی ٹھیک 5/ سال پہلے
آج کے ہی دن ایک جانباز اور ہونہار شخص کو صرف اسلئے موت کے گھاٹ اتار دیا  جاتا ہے کہ وہ بے گناہ  لوگوں کیلئے آواز اٹھاتا ہے۔
یہ ہیں مرحوم وکیل شاہد اعظمی  جب یہ 14/ سال کے ہی تھے  تب 1992/عیسوی کے فساد   میں انہیں ملزم بنا کر گرفتار کر لیا گیا تھا۔
انہوں نے جیل میں ہی رہ کر اپنی پڑھائی پوری کی ۔
اور سال 2013 عیسوی میں وکالت کی ڈگری حاصل کی ۔
 عدالت میں مجرم نہ پائے جانے پر انہیں رہا کردیا گیا۔
جیل سے چھوٹنے پر انہوں نے ان بے قصور مسلم نوجوانوں کے کیس لڑے جو دہشت گردی کے جھوٹے  الزامات میں پھنسا دئے گئے تھے۔
اپنے سات سال کے کیریئر میں  اپنی قابلیت کے دم  پر  انہوں نے  17/ بےقصور نوجوانوں کو عدالت سے رہا کروا کر  پورے ملک کو  ہلا کر رکھ دیا  تھا۔
32/ سال کی عمر میں انکے آفس میں کچھ لوگوں نے گھس کر گولی مار کر قتل کردیا ۔
"انوراگا کشف" نے انکی زندگی پر بالی ووڈ کی  فلم "شہید " بنائی جو بہت ہی مشہور رہی۔
اپنی چھوٹی سی عمر میں ہی پورے سسٹم کو آئینہ دکھا دینے والے مرحوم شہید اعظمی کو دل سے سلام ۔
 اللہ انہیں کروٹ کروٹ اپنی رحمتوں میں رکھے اور جنت الفردوس میں جگہ نصیب کرے۔
بشکریہ:۔ آصف اعظمی
ہندی سے اردو ترجمہ: #محمدزاہدالاعظمی
ماخذ:۔میری جان اعظم گڑھ (فیس بک صفحہ)

عبدالسلام (جھِنَّک) رضائے الٰہی سے انتقال کر گئے

Mohammad Zahid     23:30    
موت سے کس کو رستگاری ہے۔
آج تم کل ہماری باری ہے۔
زندگی سے بے وفاء کوئی چیز نہیں ' موت سے وفا دار کوئی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وقت کم ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ زندگی بہت کم ہے کہ اسے نفرت کی آگ میں ناجھلسایا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  نہ کسی کو پریشان کیا جائے اور نہ ہی  اسکی طرف کسی کو راغب کیا جائے جس نے اپنی زندگی میں محبت کے پھول کھلائے ۔۔۔۔۔۔ وہ ہمیشہ یاد رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر پل اس کی کمی محسوس ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی خوشبو  یاد بن کر آتی رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسا کہ آپ سب تک یہ خبر پہونچ ہی گئی ہے  کہ عبد السلام (جھِنَّک)  آج صبح تقریباً 4/ بجے  بتاریخ۔۔۔ 19/ ربیع الاول  1436 ہجری مطابق 9/ فروری  2015 عیسوی کو رضائے الٰہی سے اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ انا للہ وان الیہ راجعون
اور  اسی  دن بعد نمازِ ظہر سپر خاک  کیا گیا۔ اور ہم اپنے ہاتھ جھاڑتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کو ہولئے۔ کتنو ں نے  تو  مرحوم کے جنازے  میں بھی شرکت نہیں کیا ہوگا ، کیوں کرتے شرکت کیا کوئی بڑی ہستی تھی یا کسی بڑے آدمی کا جنازہ تھا جس کے پاس لاکھوں کی دولت اور  سونے چاندی کی ریلم پیل تھی یا بینک اکاؤنٹ  انکے پیسوں سے کراہ رہا تھا۔ نہیں یہ دینا کی نگاہ میں ایک بیچارے غریب کا جنازہ  تھا جس کے پاس کفن کے لئے پیسے بھی ہوسکتا ہے نہ رہے ہوں ۔
ہم نے اس بیچارے غریب کو بہت پریشان کیا بہت تنگ کیا ہم نے اسے پتھر مارے گالی دی  ہمارے بچے اسے پریشان کرتے رہے اور ہم نے بجائے انہیں منع کرنے کے انکی ہاں میں ہاں ملائی اور انکا ساتھ دیا ۔
آج ہمیں خود اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ   ہم نے کیا غلط کیا اور کیا صحیح ہم اتنے بے حس ہوچکے ہیں کہ کسی کو پریشان کرتے وقت یا اسے برا بھلا کہتے وقت ذرا بھی  دل میں یہ گمان نہیں آتا کہ آیا ایسا کرنا صحیح بھی ہے یا نہیں۔  اگرچہ ہم  نے جو بھی کہا مذاق میں کہا یا وقت گذاری کے لئے ایسا کیا یا کہا ۔ لیکن وہ مذاق اور وہ وقت گذاری کا کام جو کسی کے دل کو تکلیف پہونچائے وہ سراسر  گناہ کا کام  ہے ہمیں اس سے بچنا چاہئے تھا ۔ ہم نے اپنی زندگی میں بہت سے ایسے کام کئے  جس سے لوگوں کا دل دکھا  انہیں تکلیف پہونچی اور آج تک ہمیں ان سے معافی  مانگنے کا خیال تک نہ  آیا ۔

میں  صرف آپ سب کی ہی بات نہیں کر رہا بلکہ میں بھی اسی فہرست میں  ہوں۔آج مرحوم عبدالسلام کے گذر جانے کے بعد  مجھے یہ احساس ہوا کہ ہم نے جو کیا یا کہا اس بیچارے کو بالکل غلط تھا اس وقت لڑکپن تھا ہمیں کوئی منع کرنے والا نہیں تھا لوگ منع کیا کرتے بلکہ لوگ تو ہمیں خود اکساتے کہ اسے پریشان کرو ۔
 آؤ آج ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ اب نہ ہم آئندہ کسی کو پریشان کریں گے اور نہ ہم آنے والی نسل کو ایسا کرنے دیں  گے کیونکہ میرے عزیزوں!! یہ معاملہ صرف دنیا میں ختم ہوجانے وا لا نہیں  ہے بلکہ اس کے متعلق ہمیں آخرت میں جواب بھی دینا۔
آج ہم مرحوم سے معافی تو نہیں مانگ سکتے لیکن اسکے حق میں دعا تو کرسکتے ہیں اپنے نیک اعمال اس بیچارے کو ایصالِ ثواب تو کر سکتے ہیں۔ تو آئے اللہ سے دعا کریں کہ اللہ مرحوم کی مغفرت  فرمائے اور بلا حساب و کتاب جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین
محمدزاہدالاعظمی

Abdus Salam(Jhinnak) died.

Mohammad Zahid     13:48    
موت سے کس کو رستگاری ہے- آج تم کل ہماری باری ہے-
نہ ملے گا کوئی بھی رونےکو- فاتحہ اپنی آپ ہی پڑھ لو-
"اناللہ وانا الیہ راجعون"
ہم بھائی عبدالسلام (جھِنَّک ) کے لئے دعا مغفرت کی استدعا کرتے ہیں-
اللہ پاک انکی مغفرت اور ان کے درجات بلند فرمائیں اور قرب معصومین عطا فرمائے- آمین

کچھ حج 2014 کے متعلق۔

Mohammad Zahid     20:08    

 

حج کمیٹی آف انڈیا

(وزارتِ امور خرجہ کا قانونی طور پر وضع کردہ ادارہ)


ھدایت برائے حج 1435ھجری بمطابق 2014ء
حج کمیٹی آف اندیا ایکٹ 2002ء (2002ء کے نمبر 35) کے تحت قانونی طور پر وضع کردہ ادارہ ہے۔ یہ حج 2014ء کے عازمین کرام کیلئے ہدایات کے اس کتابچہ کو جاری کرہا ہے۔عازمین کرام سے گذارش ہے کہ وہ درخوست فارم پر کرنے سے پہلےان ہدایات کا بغور مطالعہ کریں۔

:عام معلومات

حج کے انتظامات کیلئے مختلف اجنسیوں کو ان سے متعلق کام سونپے گئے ہیں۔حج کمیٹی آف انڈیا کو اصول وضوابط کے تحت صرف ہندوستان میں حج کے انتظامات کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ عازمین کرام کے جدہ/مدینہ منورۃ ایئر پورٹ میں پہنچنے پر اور مملکت سعودی عربیہ میں ان کے قیام کے دوران ان کی دیکھ بھال اور شکایات کے ازالے کی ذمہ داری قونصلٹ جنرل ہند، جدہ کی ہے۔عازمین حج کو انکے سامان کے ساتھ لانے اور لیجانے کی ذمہ داری وازارتِ شہری ہوابازی کی ہے اور اسی وزارت کو اس کام کے سلسلے مرکزیت حاصل ہے۔ عازمین حج کو مہیا کرائی گئی مراعات کی نگہبانی کیلئے حج کمیٹی آف انڈیا ذمہ دار ہے، لہذا کسی بھی قسم کی کمی یا کوتاہی حج کمیٹی آف انڈیا کے علم میں لائی جانی چاہئے۔
پوری جانکاری کیلئے آپ اس کتابچہ کو ضرور پڑہیں۔

مجھکو تو اس شخص پے رونا آتا ہے

Mohammad Zahid     13:36    

اس غزل کو  "#عبداللہ #شہاب " نے لکھا ہے۔

مجھکو تو اس شخص پے رونا آتا ہے
جینے پر بھی جس کو مرنا آتا ہے۔
جس کے اندر فہم وذکا ہوجاتی ہے
تو پھر اس کو سم گم ہونا آتا ہے۔
خوشبو کا مخصوص نہیں ہے در کوئی
اس کو تو ہردر پے مہکنا آتا ہے۔
چھپ جائیں یہ کہہ دو جا کر تاروں سے
گھر میں ہم کو دیا جلانا آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ تو خوبی اس کے اندر ہوگی شہاب
مرنے پر بھی اس کو جینا آتا ہے۔

میں اپنے تمام ممبران سے گذارش کرتا ہوں کہ اس غزل کو پڑہنے کے بعد اپنے تأثرات کو کمنٹ میں ضرور لکھیں۔

© 2011-2015 Teunga | Distributed By My Blogger Themes | Designed By Mohammad Zahid Azmi